چلا گیا ہے جو دُور تم کو نہیں ملے گا
رفاقتوں کا سرُور تم کو نہیں ملے گا
چراغ بن کر جلاؤ خود ہی وجود اپنا
کسی کے سورج سے نُور تم کو نہیں ملے گا.
سزا تو دے دو گے تم گواہی کی روشنی میں
مگر ہمارا قصور تم کو نہیں ملے گا
غلام ذہنوں تمہاری قسمت ہی بیڑیاں ہیں
بغاوتوں کا شعور تم کو نہیں ملے گا
ہر اک کی قسمت نہیں جنوں کی مثال ہونا
ہمارے سر کا غرور تم کو نہیں ملے گا
جہانِ دل کے ہر اک محلے میں اس کو ڈھونڈو
یہاں وہ ہو گا ضرور تم کو نہیں ملے گا
تمہاری الفت کا وقتِ بعثت گزر چکا ہے
ہمارے موسیٰ یہ طور تم کو نہیں ملے گا
تم اتنے قادر ہو سوچنے پر، تو پھر یہ طے ہے
کہ یہ دلِ نا صبور تم کو نہیں ملے گا
ہمارے دل کی تلاشی لینی ہے آؤ لے لو
جز اس کے کچھ بھی حضور تم کو نہیں ملے گا
ہم ایسے کچھ سر پھرے بچے ہیں جہاں میں راجز
پھر الفتوں کا فتور تم کو نہیں ملے گا
راجز ودوان
علی ذوالقرنین
No comments:
Post a Comment