صفحات

Sunday, 2 January 2022

وہ جو بوڑھا بدن ہے وہ میں کیوں نہیں

 میرا ووٹ آپ کا


٭صبح کے سرد جھونکے برہنہ کسی صحن میں

اپنی موجودگی پر ہیں ماتم کُناں

ہر طرف سے اُداسی کی یلغار ہے

اک زمیندار ہے

چارپائی کی چیخوں سے اُلجھا ہوا

ایک بوڑھا بدن، بائیں جانب سرکتے ہوئے

نالیوں سے اُمڈتی غلاظت کو اپنی نگہ سے کترتے ہوئے

کڑوی دستک کو کانوں میں بھرتا ہے اور

اپنے بیٹے کے کاندھوں پہ لٹکے ہوئے

بھاری ہاتھوں کے پھندوں پہ اپنی لرزتی صدا

خودکشی کے لیے بھیجتا ہے کہ اس بار بھی

میرا ووٹ آپ کا

٭٭میرے کھیتوں کی فصلیں، مِرے راستے

گاؤں کا ہر کنواں اور چشموں پہ اُگتے ہوئے زمزے آپ کے

مے کدے آپ کے

عرس، میلے یہ دربار بھی آپ کے

جتنے فِرقے ہیں اُن کی مساجد کے مینار بھی آپ کے

قتل گاہوں میں چھپتے ہوئے سبز اخبار بھی آپ کے

ان گھڑوں پر لپکتے سسکتے پرندوں کی ہر ڈار بھی آپ کی

ہر حویلی کے قیدی شجر سے پھسلتی ہوئی

سُرخ چہکار بھی آپ کی

گاوں کی جھگیوں میں پنپتی ہوئی عصمتیں آپ کی

قسمتیں آپ کی

٭٭٭پیر صاحب کے تعویز پر درج ساری شفا آپ کی

یہ ہوا آپ کی، یہ گھٹا آپ کی

فیض و جالب کے دیوان میں

آہ بھرتی ہوئی شاعری آپ کی

تیرگی کے بدن پر لچکتی ہوئی چاندنی آپ کی

روشنی آپ کی، زندگی آپ کی، ہر خوشی آپ کی

میرے بیٹے کی نیندوں میں ہر اک مہکتا ہوا خواب بھی آپ کا

انقلاب آپ کا

میرے بچوں کی لُڈو کی سب گوٹیاں آپ کی

اور یہ سُوکھی ہوئی روٹیاں آپ کی

خواہشیں جو وراثت میں مجھ کو ملی تھیں انہیں آج دفنا دیا

خود کو کفنا دیا

کچھ پُراسرار ہونٹوں سے شعلے چٹختی ہوئی ساعتوں پر پڑے

ساری کرنیں جُھلسنے لگیں

خود سے سُورج نے شکوہ کیِا اور کہا

چارپائی کی چیخوں سے اُلجھا ہوا

وہ جو بوڑھا بدن ہے

وہ میں کیوں نہیں؟


نوید ملک

No comments:

Post a Comment