تمہاری نادان محبت کے نام
نہ ہوتا واٹس اپ پیارے
تو کیا تم پوچھتے ہم کو
یہ روزانہ جو اک میسج مجھے تم بھیج دیتے ہو
نہ یہ فقرے تمہارے ہیں
نہ یہ لہجہ تمہارا ہے، نہ یہ چہرہ تمہارا ہے
کسی نے چند سطریں تم کو بھیجی تھیں جو گردش کر رہی تھیں
اس افق سے اس افق تک
وہی سطریں، وہی باتیں مجھے بھی بھیج دیں تم نے
نہ یہ لہجہ تمہارا ہے، نہ یہ چہرہ تمہارا ہے
یہ مصنوعی محبت جس میں شاخ گل ہے، تتلی ہے نہ خوشبو ہے
نہ دلداری کا جادو ہے
نہ یہ معصوم اور سادہ سی اردو ہے
نہ یہ چہرہ تمہارا ہے نہ یہ لہجہ تمہارا ہے
یہ میسج
اب تمہارے ہیں نہ میرے ہیں
انہیں احساس کی تختی سے بھی ڈیلیٹ کر دینا
مگر
مگر جب بھی کسی ساعت میں میری یاد آ جائے
تو دل کے واٹس اپ پر
دل کی دھڑکن سے مِرا بس نام لکھ دینا
ہلال نقوی
No comments:
Post a Comment