بیٹھیۓ پاس اور کچھ نظر کیجیۓ
مستقل رات کو اب سحر کیجیۓ
ہم محبت زدہ شاعروں کی ذرا
قدر ہوتی نہیں ہے، مگر کیجیۓ
دوستوں میں چھپے دشمنوں پر کبھی
مشورہ ہے ذرا اک نظر کیجیۓ
حوصلہ بڑھ گیا قاتلوں کا بہت
عدل و انصاف کو معتبر کیجیۓ
مانتے ہیں خطا ہم مگر اب سزا
ہے گزارش ذرا مختصر کیجیۓ
دل یہ چاہے کہ اب بے ہنر زندگی
عشق کی پیروی میں بسر کیجیۓ
دن بہاروں کے ڈھلنے لگے ہیں صِلہ
سبز و شاداب کب تک سفر کیجیۓ
صلہ سندھو
No comments:
Post a Comment