صفحات

Saturday, 1 January 2022

الفت کی کشاکش میں ہیں الجھائے ہوئے لوگ

 الفت کی کشاکش میں ہیں الجھائے ہوئے لوگ

کس درجہ حوادث سے ہیں سہمائے ہوئے لوگ

احباب کی سازش سے شکستہ ہوئے اکثر

اغیار کے تیروں سے ہیں زخمائے ہوئے لوگ

جیتے رہے اقدار کی تکمیل میں ہر گام

تہذیب کے مدفن میں ہیں دفنائے ہوئے لوگ

شانوں پہ اٹھائے ہوئے آلام کے انبار

ہیں کشمکشِ زیست سے دہلائے ہوئے لوگ

احساس کی بھٹی میں وہ تپتے ہوئے چہرے

دیوارِ مصائب میں ہیں چنوائے ہوئے لوگ

افلاس کی شوریدہ زمینوں سے ابھرتے

آفات کی حدت سے ہیں سنولائے ہوئے لوگ

اوڑھے ہوئے صحراؤں میں خاروں کے لبادے

پھولوں کی طرح درد سے مرجھائے ہوئے لوگ

وہ جس کی تمازت سے پگھلنے لگے ہستی

اک آگ سی سینوں میں ہیں سلگائے ہوئے لوگ

کھینچے گئے پھر دار پہ منصور کئی بار

انصاف کی دہلیز سے ٹھکرائے ہوئے لوگ


منصور نقوی

No comments:

Post a Comment