صفحات

Saturday, 1 January 2022

دھوپ میں کام یہ آتے ہیں بنا اجرت کے

 دھوپ میں کام یہ آتے ہیں بِنا اُجرت کے

اس لیے پیڑ لگاتے ہیں بنا اجرت کے

زندگی نام کے اس دشت میں جو بھی آئے

ہم اسے راہ دکھاتے ہیں بنا اجرت کے

ہم سے مزدور زمانے میں کہاں ہوتے ہیں

جو تجھے روز ہنساتے ہیں بنا اجرت کے

کیا بتائیں کہ اب اس طاق سے کیا نسبت ہے

کیوں وہاں دِیپ جلاتے ہیں بنا اجرت کے

تم کسی گیت کو گا لو کہ سدا زندہ رہے

ہم کوئی ساز بناتے ہیں بنا اجرت کے

تجھ سے منسوب اِسی طور ہمیں ہونا ہے

لا، تِرا بوجھ اٹھاتے ہیں بنا اجرت کے

کس کو آواز لگاتے ہیں یوں عطاس احمد

کس کو آواز لگاتے ہیں بنا اجرت کے


اعطاس احمد

No comments:

Post a Comment