الفت کی کشاکش میں ہیں الجھائے ہوئے لوگ
کس درجہ حوادث سے ہیں سہمائے ہوئے لوگ
احباب کی سازش سے شکستہ ہوئے اکثر
اغیار کے تیروں سے ہیں زخمائے ہوئے لوگ
جیتے رہے اقدار کی تکمیل میں ہر گام
تہذیب کے مدفن میں ہیں دفنائے ہوئے لوگ
شانوں پہ اٹھائے ہوئے آلام کے انبار
ہیں کشمکشِ زیست سے دہلائے ہوئے لوگ
احساس کی بھٹی میں وہ تپتے ہوئے چہرے
دیوارِ مصائب میں ہیں چنوائے ہوئے لوگ
افلاس کی شوریدہ زمینوں سے ابھرتے
آفات کی حدت سے ہیں سنولائے ہوئے لوگ
اوڑھے ہوئے صحراؤں میں خاروں کے لبادے
پھولوں کی طرح درد سے مرجھائے ہوئے لوگ
وہ جس کی تمازت سے پگھلنے لگے ہستی
اک آگ سی سینوں میں ہیں سلگائے ہوئے لوگ
کھینچے گئے پھر دار پہ منصور کئی بار
انصاف کی دہلیز سے ٹھکرائے ہوئے لوگ
منصور نقوی
No comments:
Post a Comment