صفحات

Sunday, 2 January 2022

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ

 اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ

آپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ

بے نیاز ملال ہیں ہم لوگ

لاکھ صید زوال ہیں ہم لوگ

اپنے عصیاں کی شرمساری سے

پیکرِ انفعال ہیں ہم لوگ

اک فسانہ ہے شوکت ماضی

دیکھ لو خستہ حال ہیں ہم لوگ

بتکدے میں اذاں نہ دیں تو سہی

یادگاری بلال ہیں ہم لوگ

کیوں پریشاں ہے اے دلِ محزوں

دولت لا زوال ہیں ہم لوگ

ہم سے روشن ہے آسمان ادب

غیرتِ صد ہلال ہیں ہم لوگ

اک معما ہے زندگی شاطر

کیا انوکھا سوال ہیں ہم لوگ


شاطر حکیمی

No comments:

Post a Comment