صفحات

Tuesday, 18 January 2022

آزردگی کا اس کی ذرا مجھ کو پاس تھا

 آزردگی کا اس کی ذرا مجھ کو پاس تھا

میں ورنہ آج اس سے زیادہ اداس تھا

سورج نہیں تھا دور سوا نیزے سے مگر

میری انا کا سایہ مِرے آس پاس تھا

اب آ کے سو گیا ہے سمندر کی گود میں

دریا میں ورنہ شور ہی اس کی اساس تھا

روحیں اٹھیں گلے ملیں واپس چلی گئیں

اس راز کے چھپانے کو تن پر لباس تھا

پڑھ کر جسے ابھرنے لگیں ان گنت سوال

ایسے ہی اک فسانے کا وہ اقتباس تھا

اب آ کے برف پگھلی ہے کچھ اعتقاد کی

جس کو یقیں سمجھتے رہے ہم قیاس تھا


آفتاب شمسی

No comments:

Post a Comment