صفحات

Tuesday, 18 January 2022

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا

 کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا

کیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہا

ان کی محفل میں اس کے چرچے ہیں

مجھ سے اچھا مرا فسانہ رہا

واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے

مے کدہ اب تو مے کدہ نہ رہا

اف رے نا آشنائیاں اس کی

چار دن بھی تو آشنا نہ رہا

لاکھ پردے میں کوئی کیوں نہ چھپے

راز الفت تو اب چھپا نہ رہا

اتنی مایوسیاں بھی کیا بیخود

کیا خدا کا بھی آسرا نہ رہا


بیخود بدایونی

No comments:

Post a Comment