غمِ زندگی کا بھرم دیکھتے ہیں
کبھی سُر، کبھی سازِ غم دیکھتے ہیں
کبھی دیکھتے ہیں تمہیں مسکرا کے
کبھی کر کے آنکھوں کو نم دیکھتے ہیں
نگاہِ امیدِ کرم دیکھ کر اب
تِری زیست کے پیچ و خم دیکھتے ہیں
بدلتے ہوئے موسموں کے سبب ہم
عجب رنگِ ہستی صنم دیکھتے ہیں
نگاہِ محبت کا جادو ہے دل پر
تمہیں بے خودی میں جو ہم دیکھتے ہیں
بلا کے وہ بزم نگاراں میں ہم کو
محبت کا اپنی بھرم دیکھتے ہیں
چلے شازیہ ان کے نقشِ قدم پر
سبب ہے یہی جو ستم دیکھتے ہیں
شازیہ طارق
No comments:
Post a Comment