یہ مشورہ تو ٹھیک کہ خوش خوش رہا کریں
لیکن غموں سے اپنی لگاوٹ ہے کیا کریں
کچھ دن ہوئے کہ اپنی نگاہوں میں نیند ہے
آؤ، کہ خوابِ یار میں پھر رت جگا کریں
اک ضبطِ حالِ دل ہی سے زندہ ہیں اب تلک
مر جائیں حالِ دل کا اگر کچھ گِلہ کریں
تُو مُورتوں میں ڈھل نہیں سکتا وگرنہ ہم
تجھ کو بنا کے بُت تیری پوجا کیا کریں
عباس! یہ سفر کا تقاضا تھا، ورنہ ہم
کب چاہتے تھے تجھ کو کبھی الوداع کریں
ارسلان عباس
No comments:
Post a Comment