صفحات

Sunday, 2 January 2022

رسم الفت سے ہے مقصود وفا ہو کہ نہ ہو

 رسم الفت سے ہے مقصود وفا ہو کہ نہ ہو

زخم دل اور ہو خون بستہ شفا ہو کہ نہ ہو

ہم جفاکار وفا ہیں ہمیں مطلوب نہیں

حاصل زلف سیاہ کار سزا ہو کہ نہ ہو

رکھ لیا تھوڑا سا امکان تمنا نے بھرم

دست شرمندہ رہے چاہے عطا ہو کہ نہ ہو

تھی ستمکاری قسمت کی وہ شدت ہمدم

تو بھی رنجیدہ رہا مجھ سے گلا ہو کہ نہ ہو

اک یہ بندش رہی انجام وفا کو کو کر

اہل دنیا پہ میری رسم روا ہو کہ نہ ہو

بس یہ آشوب محبت کی دوا ہے بالغ

مرگ آسان کی تمنا ہو قضا ہو کہ نہ ہو


عرفان میر 

No comments:

Post a Comment