صفحات

Sunday, 2 January 2022

میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے

 میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے

تلاش کرتا ہوں اب زائچے بناتے ہوئے

خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا خود کو

محبتوں میں نئے زاویہ بناتے ہوئے

بچھا کے جھیل تخیل کے ایک صحرا میں

تجھے بھلاؤں گا میں دائرے بناتے ہوئے

نکل چکا ہوں میں اپنی حدود سے آگے

نئی ردیف، نئے قافیے بناتے ہوئے

یہ حادثہ بھی مجھے پیش آ گیا، افسوس

کہ آئینہ سا ہوا آئینے بناتے ہوئے

نگل چکا ہوں ہزاروں ہی جام تلخی کے

سرورِ جاں کے لیے ذائقے بناتے ہوئے

زمیں سے ابھرا تو پھر آسماں نے کُچلا مجھے

کہیں کا میں نہ رہا مرتبے بناتے ہوئے

خود اپنے پاؤں کی زنجیر بن گیا میں تو

دلوں کے بیچ نئے سلسلے بناتے ہوئے

پلٹ کے دیکھا نہیں میں نے زندگی کی طرف

میں دوڑتا رہا بس ہم کو تھے بناتے ہوئے

ملی ہیں موج نسیمی کی قربتیں مجھ کو

عقیدتوں کے نئے ضابطے بناتے ہوئے


نسیم شیخ

No comments:

Post a Comment