میں کھو چکا ہوں عجب راستے بناتے ہوئے
تلاش کرتا ہوں اب زائچے بناتے ہوئے
خود اپنی راہ کی دیوار کر دیا خود کو
محبتوں میں نئے زاویہ بناتے ہوئے
بچھا کے جھیل تخیل کے ایک صحرا میں
تجھے بھلاؤں گا میں دائرے بناتے ہوئے
نکل چکا ہوں میں اپنی حدود سے آگے
نئی ردیف، نئے قافیے بناتے ہوئے
یہ حادثہ بھی مجھے پیش آ گیا، افسوس
کہ آئینہ سا ہوا آئینے بناتے ہوئے
نگل چکا ہوں ہزاروں ہی جام تلخی کے
سرورِ جاں کے لیے ذائقے بناتے ہوئے
زمیں سے ابھرا تو پھر آسماں نے کُچلا مجھے
کہیں کا میں نہ رہا مرتبے بناتے ہوئے
خود اپنے پاؤں کی زنجیر بن گیا میں تو
دلوں کے بیچ نئے سلسلے بناتے ہوئے
پلٹ کے دیکھا نہیں میں نے زندگی کی طرف
میں دوڑتا رہا بس ہم کو تھے بناتے ہوئے
ملی ہیں موج نسیمی کی قربتیں مجھ کو
عقیدتوں کے نئے ضابطے بناتے ہوئے
نسیم شیخ
No comments:
Post a Comment