زخم جب کھول کے ہم دیکھیں پُرانے والے
یاد آتے ہیں ہمیں پیار جتانے والے
اپنے الفاظ میں ضائع نہ کروں گا ان پر
دکھ بھلا سمجھیں گے کب میرا زمانے والے
مرنے والوں کے بھی اب ساتھ نہیں جاسکتے
لوٹ کر آ بھی نہیں سکتے وہ جانے والے
اب بھی کچھ لوگ ہیں تاریکی کے شیدائی یہاں
اب بھی باقی ہیں چراغوں کو بُجھانے والے
زندگی نام ہے دشواری کا تکلیفوں کا
ہم کو اتنا تو بتاتے تھے بتانے والے
کل بھی ہوتا تھا یہی آج بھی ہوتا ہے یہی
نیزے چڑھ جاتے ہیں حق بات بتانے والے
سبحان خالد
No comments:
Post a Comment