صفحات

Saturday, 1 January 2022

اپنا وقت آ گیا

 اپنا وقت آ گیا


٭میں فلسطینی نہیں

جو یروشلم کی محبت میں

غزہ کی پٹی سے نکلوں

اسرائیلی گولیوں کا نشانہ بنوں

اور لاش ملنے تک میرے اپنے بے خبر رہیں

٭میرا روہنگیا کے مسلمانوں سے بھی کوئی تعلق نہیں

کہ وہاں کے بُدھ بھکشوؤں کے ہاتھوں

اپنی کھال کھنچواؤں

اور میرے لوگ میرے پاس نہ ہوں

٭میں ہندوستان میں بھی نہیں رہتا

کہ گئو ماتا کو کاٹنے کے بھیانک جرم میں

پکڑا جاؤں

اور جب تک سرحد پار میرے ساتھیوں تک پیغام پہنچے

قصائی ہجوم میری تکا بوٹی کر چکا ہو

٭میں چنار وادی کا باسی بھی نہیں

کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے پر

غصہ بھرے پتھر برساؤں

اور بکتر بند گاڑی میں بٹھا کے غائب کر دیا جاؤں

٭الحمدللہ! میں اپنے وطن میں ہوں

اور اپنے ہموطنوں کے ہاتھوں مر رہا ہوں

بھلے یہ موت چند ہزار روپوں کے 

ایک سستے الزام پر ہی کیوں نہ ہو

اور یہ بھی کیا کم ہے

کہ میرے آخری لمحات

قیمتی موبائل فونوں کے تماش بین کیمروں سے

میرے اپنوں تک پہنچ رہے ہیں

ایک دنیا بھی میرا لہولہان بدن دیکھ رہی ہے

(حالانکہ، مِرے نزار بدن میں لہو ہی کتنا ہے؟)

میں نے کہا تھا نا

“اپنا وقت بھی آئے گا”


ناصرہ زبیری

No comments:

Post a Comment