تُو مجھ سے دور چلا جائے گا خدا نہ کرے
خدا کرے تُو بچھڑنے کا حوصلہ نہ کرے
اسے کہو، مِری آنکھیں دھڑکنے لگتی ہیں
اسے کہو کہ، مِرے سامنے ہنسا نہ کرے
تمہارے مالِ غنیمت میں جس کی بیٹی ہے
دعا کرو کہ وہ مفتُوح بد دُعا نہ کرے
خدا کا واسطہ دے تو یہ لوگ دیتے ہیں
بھکاری بھوک سے مر جائے گر صدا نہ کرے
تم ایسا کرنا کہ رُخ سے نقاب اُلٹ دینا
اگر یہ رات چراغوں پہ اکتفا نہ کرے
راکب مختار
No comments:
Post a Comment