صفحات

Saturday, 1 January 2022

بے سمت بے سراغ تھا لیکن ابھی تو دل

 بے سمت بے سراغ تھا لیکن ابھی تو دل

سینے میں ایک داغ تھا لیکن ابھی تو دل

اس وقت کے مزاج کو سمجھے تو جی لیے

اس وقت کچھ دماغ تھا لیکن ابھی تو دل

کچھ اور طمطراق سے جلنے لگا کوئی

ہر اشک اک چراغ تھا لیکن ابھی تو دل

سارے پرانے دلنشیں ششدر ہیں دیکھ کر

پہلے یہاں پہ باغ تھا لیکن ابھی تو دل

آنکھوں میں ایک خواب کا عزت مآب کا

تھوڑا بہت سراغ تھا لیکن ابھی تو دل

پانی سے اب کہ تشنگی مٹتی نہیں سخی

ہاتھوں میں اک ایاغ تھا لیکن ابھی تو دل

خالی منڈیر صبح کے اوقات ایک یاد

کوئی سیاہ زاغ تھا لیکن ابھی تو دل


مدثر عباس

No comments:

Post a Comment