بے سمت بے سراغ تھا لیکن ابھی تو دل
سینے میں ایک داغ تھا لیکن ابھی تو دل
اس وقت کے مزاج کو سمجھے تو جی لیے
اس وقت کچھ دماغ تھا لیکن ابھی تو دل
کچھ اور طمطراق سے جلنے لگا کوئی
ہر اشک اک چراغ تھا لیکن ابھی تو دل
سارے پرانے دلنشیں ششدر ہیں دیکھ کر
پہلے یہاں پہ باغ تھا لیکن ابھی تو دل
آنکھوں میں ایک خواب کا عزت مآب کا
تھوڑا بہت سراغ تھا لیکن ابھی تو دل
پانی سے اب کہ تشنگی مٹتی نہیں سخی
ہاتھوں میں اک ایاغ تھا لیکن ابھی تو دل
خالی منڈیر صبح کے اوقات ایک یاد
کوئی سیاہ زاغ تھا لیکن ابھی تو دل
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment