صفحات

Sunday, 2 January 2022

مجھے تو ایسی اذیت میں مبتلا نہ لگے

 مجھے تو ایسی اذیت میں مبتلا نہ لگے 

خدا سے ڈر کہ تجھے اس کی بد دعا نہ لگے 

میں ایسے خواب کی تعبیر سے پریشاں ہوں 

گِرہ لگاؤں تِرے نام کی گِرہ نہ لگے

سو گہرے زخم لگا لو مگر یہ دھیان رہے

کوئی بھی زخم تمہاری زبان کا نہ لگے

وہ جنگ چھیڑ کے اب سامنے نہیں آتا

اسے یہ ڈر ہے کوئی تیر سچ میں آ نہ لگے 

بچھڑ کے مجھ سے وہ ایسے دکھائی دیتا ہے

رہائی پا کے بھی جیسے کوئی رہا نہ لگے


فراز احمد علوی

No comments:

Post a Comment