مجھے تو ایسی اذیت میں مبتلا نہ لگے
خدا سے ڈر کہ تجھے اس کی بد دعا نہ لگے
میں ایسے خواب کی تعبیر سے پریشاں ہوں
گِرہ لگاؤں تِرے نام کی گِرہ نہ لگے
سو گہرے زخم لگا لو مگر یہ دھیان رہے
کوئی بھی زخم تمہاری زبان کا نہ لگے
وہ جنگ چھیڑ کے اب سامنے نہیں آتا
اسے یہ ڈر ہے کوئی تیر سچ میں آ نہ لگے
بچھڑ کے مجھ سے وہ ایسے دکھائی دیتا ہے
رہائی پا کے بھی جیسے کوئی رہا نہ لگے
فراز احمد علوی
No comments:
Post a Comment