تمام عمر یہ عقدہ نہیں کھلا مجھ سے
ہر ایک شخص ہے کیونکر گریز پا مجھ سے
عجیب حکم ہے اس کی سزا بھی میں کاٹوں
وہ ایک جرم جو سرزد نہیں ہوا مجھ سے
میں کس طرح سے اسے زندگی سمجھ لیتا
جو ایک بار بھی کھل کر نہیں ملا مجھ سے
نظر جو اس سے ہٹاؤں تو ایسا لگتا ہے
کوئی نماز ہوئی ہو کہیں قضا مجھ سے
ہجوم شہر پہ الزام کس لیے عاصم
مِرا نصیب ہی کرتا رہا دغا مجھ سے
عاصم بخاری
No comments:
Post a Comment