Saturday, 1 January 2022

تمام عمر یہ عقدہ نہیں کھلا مجھ سے

 تمام عمر یہ عقدہ نہیں کھلا مجھ سے

ہر ایک شخص ہے کیونکر گریز پا مجھ سے 

عجیب حکم ہے اس کی سزا بھی میں کاٹوں 

وہ ایک جرم جو سرزد نہیں ہوا مجھ سے 

میں کس طرح سے اسے زندگی سمجھ لیتا 

جو ایک بار بھی کھل کر نہیں ملا مجھ سے 

نظر جو اس سے ہٹاؤں تو ایسا لگتا ہے 

کوئی نماز ہوئی ہو کہیں قضا مجھ سے 

ہجوم شہر پہ الزام کس لیے عاصم

مِرا نصیب ہی کرتا رہا دغا مجھ سے 


عاصم بخاری

No comments:

Post a Comment