صفحات

Monday, 17 January 2022

رونے کا حال لکھ نہ رلانے کا حال لکھ

 رونے کا حال لکھ نہ رُلانے کا حال لکھ

لکھنا ہے گر تجھے تو زمانے کا حال لکھ

زنداں میں فاقہ کش یہ گزارے گا زندگی

انصاف دیکھ روٹی چُرانے کا حال لکھ

پہلے تو چھین منہ کے نوِالے غریب کے

پھر ان کی بھوک تُو ہی مٹانے کا حال لکھ

جو کر رہا ہے وعدہ تو کیا وہ نبھائے گا؟

اُس کا کہا سُنا تو فسانے کا حال لکھ

کب اپنے پاؤں چلتی ہے مفلس کی زندگی

کندھوں پہ بوجھ اِس کا اٹھانے کا حال لکھ

تھے جس قدر درخت وہ سب راکھ ہو گئے

جنگل میں آگ تو بھی لگانے کا حال لکھ

ہم تھے انا ہماری تھی پاؤں پڑی ہوئی

ظالم کو یوں ہمارے منانے کا حال لکھ

حسن و ادا کے ساتھ ہے چلاک وہ کہ یوں

دنیا کو انگلیوں پہ نچانے کا حال لکھ

پھر اِس کے بعد ترکِ محبت کی بات کر

پہلے پہل تو دل کے لگانے کاحال لکھ

پہلے لگا دے آگ تو خود اِس جہان میں

پھر سے اسے تو خود ہی بجھانے کا حال لکھ

وہ بن سنور کے آیا یوں بزمِ رقیب میں

اُس کے عجیب دل کو جلانے کا حال لکھ

انسان ہونا پہلے تُو ثابت تو کر عجیب

پھر جا کے تُو نبیؐ کے گھرانے کا حال لکھ


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment