سب خاک پڑا رہ جائے گا
جب راہگزر پہ ٹھہرو گے
پھر پاس ہمیں بلواؤ گے
ہم جان کو اپنی واریں گے
جب شعر تمہیں سنوائیں گے
ہم حال پریشاں بھائیں گے
احوال ہمارے جانو گے
تو درد کا مارا مانو گے
اس جان گسل کا کیا کہنا
جو زندہ رزم سا لگتا ہے
سب نقش مٹاتے چلتے ہیں
اک روز جنہیں مٹ جانا ہے
یہ عشق کی باتیں چھوڑو اب
یہ رشک قمر اک دھوکہ ہے
اے فرد بشر اب سمجھو تم
پھر کون تمہیں سمجھائے گا
جب شور قیامت سن لو گے
کیا دُم دبا کر، تم بھاگو گے
یہ عالمِ آب و گل ہے کیا
جب صور کو پھونکا جائے گا
سب خاک پڑا رہ جائے گا
ہے عرشِ مکاں کا وعدہ یہ
اک روز کا جھٹکا ہونا ہے
یہ چاند، ستارے اور سورج
سب نقش زمیں ہو جائے گا
اے شہرِ غنیمت کے لوگو
سب رنگ نگر تب چیخیں گے
یہ موت، ہر شے کو آنی ہے
گو زندگی آنی و فانی ہے
اس موجِ نفس میں کیا دم ہے
اک موج ہوا ہے، اور کیا ہے
جب دم دما دم چلتی ہے یہ
آغوش کشا پھر ہوتی ہے
اور سنگدلوں کو باہوں میں
جب لیتی ہے تو لگتا ہے کہ
یہ موم کی مُورت جیسے ہیں
سب ایک ہی ماتھے کے جانب
یہ ڈوب کے مر ہی جاتے ہیں
ان نقشِ قدم پہ چلتے ہیں
وہ لوگ جنہیں مر جانا ہے
یاور حبیب ڈار
No comments:
Post a Comment