جھوٹ سچ جب لگے تھے تجھے سوچ کر
بر محل پھر کہے تھے تجھے سوچ کر
جب نہ تھا عشق تم بِن سکوں تھا بہت
اشکِ غم کب بہے تھے تجھے سوچ کر
روز پڑھ کر تجھے بھیجتے ہم رہے
جتنے بھی خط لکھے تھے تجھے سوچ کر
درد و غم اس قدر ہر قدم پر ستم
مسکرا کر سہے تھے تجھے سوچ کر
پھر ملاقات کا کچھ ارادہ نہ تھا
بے سبب سج رہے تھے تجھے سوچ کر
عشق تھا ہم سخن،۔ شاعرانہ فضا
ہم غزل لکھ رہے تھے تجھے سوچ کر
صلہ سندھو
No comments:
Post a Comment