صفحات

Sunday, 20 February 2022

خود سے بھی اک بات چھپایا کرتا ہوں

 خود سے بھی اک بات چھپایا کرتا ہوں

اپنے اندر غیر کو دیکھا کرتا ہوں

اپنی صورت بھی کب اپنی لگتی ہے

آئینوں میں خود کو دیکھا کرتا ہوں

ارمانوں کے روپ نگر میں رہ کر بھی

خود کو تنہا تنہا پایا کرتا ہوں

گلشن گلشن صحرا صحرا برسوں سے

آوارہ آوارہ گھوما کرتا ہوں

فرضی قصوں جھوٹی باتوں سے اکثر

سچائی کے قد کو ناپا کرتا ہوں


تنویر سامانی

No comments:

Post a Comment