غبار و سنگ سے، دیوار و در سے رشتہ ہے
نہ جانے کیسا تری رہگزر سے رشتہ ہے
فلک سے رشتہ ہے شمس و قمرسے رشتہ ہے
ہمارے شوق کا علم و ہنر سے رشتہ ہے
کوئی جو آئے تو آئے بھی کیوں مِری جانب
کسی کا کون سا سوکھے شجر سے رشتہ ہے
میں اس سے ملنا بھی چاہوں اگر، ملوں کیسے
مِرا تو شام سے اس کا سحر سے رشتہ ہے
میں سوکھنے نہیں دیتی کبھی دو آبے کو
کسی کے غم کا مِری چشم تر سے رشتہ ہے
میں کیا کروں وہی میری نظر کو ہے منظور
ہر اک نگاہ کا جس کی نظر سے رشتہ ہے
دعائیں مانگتی رہتی ہوں رات دن ریشم
میں جانتی ہوں دعا کا اثر سے رشتہ ہے
ریشما ریشم زیدی
No comments:
Post a Comment