صفحات

Sunday, 20 February 2022

خزاں کی رت میں خیال بہار لے ڈوبا

 خزاں کی رُت میں خیالِ بہار لے ڈوبا

تِرا فراق ہمیں دیکھ، یار! لے ڈوبا

نہیں وہ عشق نہیں اور کچھ ہوا ہو گا

اسی لیے تو تمہیں وہ خمار لے ڈوبا

سنا تھا ہم نے گزرتا ہے وقت تیزی سے

مگر، ہمیں تو یہاں انتظار لے ڈوبا

مجھے اتار کے شیشے میں اس نے ہنس کے کہا

تمھیں خبر ہے؟ تمہیں اعتبار لے ڈوبا

کبھی نگاہ کرو اس زوال کی جانب

حقیقتوں سے تمہارا فرار، لے ڈوبا

ہیں منتظر کہ پکارے گا ایک دن ہم کو

مگر اسے تو، انا کا حصار لے ڈوبا

کسی طرح نہیں آتا ہمارے قابو میں

یہ دل ہی تھا جو ہمیں بار بار لے ڈوبا

ہے عاجزی بھی ضروری مگر خیال رہے

یہ کل نہ کہنا پڑے انکسار لے ڈوبا


سعید سعدی

No comments:

Post a Comment