صفحات

Monday, 21 February 2022

اپنی شکستہ حالی پہ روئے تھے رات بھر

 اپنی شکستہ حالی پہ روئے تھے رات بھر

کشکولِ روحِ خالی پہ روئے تھے رات بھر

شب بھر عجیب سائے ڈراتے رہے ہمیں

فرقت کی رات کالی پہ روئے تھے رات بھر

برسات تھی کہ ٹوٹ کر برسی تمام رات

ہم دل کی خشک سالی پہ روئے تھے رات بھر

تنہائیوں کا ہم سے مداوا نہ ہو سکا

اپنے مکان خالی پہ روئے تھے رات بھر

دہلیز پہ جو اس کی تھا فرحت گزر ہوا

اپنے دلِ سوالی پہ روئے تھے رات بھر


فرزانہ فرحت

No comments:

Post a Comment