صفحات

Monday, 21 February 2022

زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گا

 زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گا 

اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا 

مِری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں 

نئے موسموں میں بکھر جاؤں گا 

اگر آ گیا آئینہ⌗ سامنے 

تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا 

وہ اک آنکھ جو میری اپنی بھی ہے 

نہ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا 

وہ اک شخص آواز دے گا اگر 

میں خالی سڑک پر ٹھہر جا

میں خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں گا 

پلٹ کر نہ پایا کسی کو اگر 

تو اپنی ہی آہٹ سے ڈر جاؤں گا 

تِری ذات میں سانس لی ہے سدا 

تجھے چھوڑ کر میں کدھر جاؤں 


عادل منصوری

No comments:

Post a Comment