صفحات

Monday, 21 February 2022

ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا

 ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا

گئے یُگوں کے بُتوں کا زوال آئے گا

ہُنر کا عکس بھی ہو آئینہ بھی بن جاؤ

پھر اس کے بعد ہی رنگِ کمال آئے گا

حریف جاں ہے اگر وہ تو پھر کہو اس سے

گئی جو جان تو دل کا سوال آئے گا

یقین ہے کہ ملے گا عروج ہم کو بھی

یقین ہے کہ تِرا بھی زوال آئے گا

ابھی امید کو مایوسیوں کا رنگ نہ دے

ٹھہر ٹھہر ابھی اس کا خیال آئے گا

اسی کے شہ پہ بجھے گا چراغ دل عادل

نہاں خلوص میں جو اشتعال آئے گا


عادل حیات

No comments:

Post a Comment