صفحات

Monday, 21 February 2022

سرخ ورثہ یاد ہے تم کو وہ دن

 سرخ ورثہ


یاد ہے تم کو وہ دن

جب رہٹ سے کچھ فاصلے پر

ہم نے سُلگایا ہوا تھا

ایک ننھا سا الاؤ

خشک پتوں، ٹہنیوں

اور کیکروں کی چھال سے

تھال میں رکھے ہوئے

شِیرے سے آٹھتی بھاپ نے

بس ایک راحت سی بچھا رکھی تھی

بھیتر آنکھ کے

اور چار جانب شانتی ہی شانتی

پہلی بھیلی کو ذرا چکھتے ہی تم نے

اک مسرت سے بھری آواز میں

مجھ کو بلایا اور میں

سر سبز کھیتوں کے کنارے پر کھڑی

تکتی رہی، بس مسکراتی

جھینپتی، ہنستی رہی

یاد ہے مجھ کو

کہ تم نے ڈوبتے سورج کی کرنوں کو

دھکیلا ہاتھ سے

اور چھیڑتی، اٹھکیلیاں کرتی ہوا سے

کس طرح نظریں بچا کر

اپنے ہونٹوں سے نشاں اپنی محبت کا

بنایا روح پر میری

نجانے کون سا یُگ تھا

جنم پہلا تھا یا پھر آخری

پھر تمہارا سامنا ہے

گیت گاتی سادگی

سرسبز کھیتوں میں چھپی

پگڈنڈیوں کی تاہنگ ہے پھر سے

مجھے پھر خشک پتوں

ٹہنیوں اور چھال سے دہکے الاؤ کے

دھوئیں نے گھیر رکھا ہے

افق پر ڈوبتے سورج کی کرنوں سے

بلاوے کی کسک پھر جاگ اٹھی ہے

نہ جانے کون سا یُگ ہے؟

جنم پہلا ہے یا ہے آخری


پروین طاہر

No comments:

Post a Comment