صفحات

Monday, 21 February 2022

جگنوؤں سے سیکھیں گے ہم بھی روشنی کرنا

 جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا

اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا

دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں

وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا

کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو

میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا

آ دماغ روشن کر، یہ چراغ روشن کر

ظلمتوں میں اچھا ہے شغلِ مے کشی کرنا

اے امامِ صحرا تُو آج کی گواہی دے

شرطِ آدمیت ہے جبر کی نفی کرنا

موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میں

اس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا

عشق میں مقلد ہیں ہم طریق غالب کے

مہرُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرنا


آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment