بارش کے چند قطروں سے سیراب ہو گئے
سوکھے ہوئے جو پیڑ تھے شاداب ہو گئے
منت پذیرِ محفلِ احباب ہو گئے
نغمے ہمارے تشنۂ مضراب ہو گئے
کرنے لگے ہیں چاک گریبان کو رفو
اہلِ جنوں بھی واقفِ آداب ہو گئے
ساحل کی سمت ان کی نگاہیں لگی رہیں
جو لوگ غرقِ حلقۂ گرداب ہو گئے
اب دور سے بھی دیکھ کے پہچانتے ہیں لوگ
سجدے تمہارے نام کے محراب ہو گئے
سمجھے تھے تیری دید سے کچھ چین آئے گا
دیکھا تجھے تو اور بھی بے تاب ہو گئے
رجب چوہدری
No comments:
Post a Comment