صفحات

Monday, 21 February 2022

بارش کے چند قطروں سے سیراب ہو گئے

 بارش کے چند قطروں سے سیراب ہو گئے

سوکھے ہوئے جو پیڑ تھے شاداب ہو گئے

منت پذیرِ محفلِ احباب ہو گئے

نغمے ہمارے تشنۂ مضراب ہو گئے

کرنے لگے ہیں چاک گریبان کو رفو

اہلِ جنوں بھی واقفِ آداب ہو گئے

ساحل کی سمت ان کی نگاہیں لگی رہیں

جو لوگ غرقِ حلقۂ گرداب ہو گئے

اب دور سے بھی دیکھ کے پہچانتے ہیں لوگ

سجدے تمہارے نام کے محراب ہو گئے

سمجھے تھے تیری دید سے کچھ چین آئے گا

دیکھا تجھے تو اور بھی بے تاب ہو گئے


رجب چوہدری

No comments:

Post a Comment