صفحات

Monday, 21 February 2022

ترس رہا ہوں میں تو اپنے پیاروں کو

 ترس رہا ہوں میں تو اپنے پیاروں کو

دنیا گھر کہتی ہے کچھ دیواروں کو

پیارے لوگوں سے جو پیار نہیں کرتے

کیسے میں سمجھاؤں ان بے چاروں کو

گرم گلابی آنچ سہی رخساروں کی

پھول سمجھ کر چھو لو ان افگاروں کو

حسن پرستی صوفی مُلا کیا جانیں

کیوں رُسوا کرتے ہو عزت داروں کو

گھر والو! جب گھر میں چوری ہو جائے

سب سے پہلے پکڑو پہرے داروں کو

پھولوں کی فطرت سے وہ ناواقف ہیں

مٹھی میں جو بند کریں مہکاروں کو

جام پہ ہے پابندی تو پھر اے ساقی

تھوڑا زہر پلا دے بادہ خواروں کو

دیکھ کے اس کو بڑے بڑے فنکار قتیل

بھول گئے اپنے اپنے شہکاروں کو


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment