کوئی بستی نہ کوئی کوچہ نہ در ہے اُس کا
وہ تو رہتا ہے مِرے دل میں کہ گھر ہے اس کا
بات یہ ہے وہ نہیں ملتا کسی سے کھُل کر
بات یہ ہے ذرا انداز دگر ہے اس کا
پاؤں میں چھالے ہیں آنکھوں میں وفا کی کرچیں
راہِ الفت میں یہی رختِ سفر ہے اس کا
نام لیتے ہی مہکتے ہیں در و بامِ وجود
میرے احساس کی رگ رگ پہ اثر ہے اس کا
جس طرف جاتا ہے وہ، اس کے بدن کی خوشبو
بول اٹھتی ہے یہی راہگزر ہے اس کا
عمر گزری وہ نہیں آیا مِرے گھر، پھر بھی
انتظار آج تلک شام و سحر ہے اس کا
کیفیت اس کی کہاں کھُلتی ہے ہر اک پہ خمار
درد و غم دل میں چھپا لینا ہنر ہے اس کا
سلیمان خمار
No comments:
Post a Comment