صفحات

Monday, 21 February 2022

جیون ایک دھمال

 جیون ایک دھمال او سائیں

جیون ایک دھمال

تن کا چولا لہر لہو کی

آنکھیں مثل مشال

جیون ایک دھمال

سانولے مکھ کی شام میں چمکے

دو ہونٹوں کے لعل

جیون ایک دھمال

وصل کی برکھا باندھ کے نکلی

ست رنگا رومال

جیون ایک دھمال

آنکھوں میں دیدار کی مستی

تن میں لہو بھونچال

جیون ایک دھمال

سانجھے دُکھ سُکھ سانجھا ان جل

سانجھ مویشی مال

جیون ایک دھمال

کِن گہری مُشکی راتوں کے

بھیدی کالے بال

جیون ایک دھمال

سرمد یار تمہیں ہو رانجھو

ملے جو ہیر سیال

جیون ایک دھمال او سائیں

جیون ایک دھمال


سرمد صہبائی

No comments:

Post a Comment