جیون ایک دھمال او سائیں
جیون ایک دھمال
تن کا چولا لہر لہو کی
آنکھیں مثل مشال
جیون ایک دھمال
سانولے مکھ کی شام میں چمکے
دو ہونٹوں کے لعل
جیون ایک دھمال
وصل کی برکھا باندھ کے نکلی
ست رنگا رومال
جیون ایک دھمال
آنکھوں میں دیدار کی مستی
تن میں لہو بھونچال
جیون ایک دھمال
سانجھے دُکھ سُکھ سانجھا ان جل
سانجھ مویشی مال
جیون ایک دھمال
کِن گہری مُشکی راتوں کے
بھیدی کالے بال
جیون ایک دھمال
سرمد یار تمہیں ہو رانجھو
ملے جو ہیر سیال
جیون ایک دھمال او سائیں
جیون ایک دھمال
سرمد صہبائی
No comments:
Post a Comment