ترس رہا ہوں میں تو اپنے پیاروں کو
دنیا گھر کہتی ہے کچھ دیواروں کو
پیارے لوگوں سے جو پیار نہیں کرتے
کیسے میں سمجھاؤں ان بے چاروں کو
گرم گلابی آنچ سہی رخساروں کی
پھول سمجھ کر چھو لو ان افگاروں کو
حسن پرستی صوفی مُلا کیا جانیں
کیوں رُسوا کرتے ہو عزت داروں کو
گھر والو! جب گھر میں چوری ہو جائے
سب سے پہلے پکڑو پہرے داروں کو
پھولوں کی فطرت سے وہ ناواقف ہیں
مٹھی میں جو بند کریں مہکاروں کو
جام پہ ہے پابندی تو پھر اے ساقی
تھوڑا زہر پلا دے بادہ خواروں کو
دیکھ کے اس کو بڑے بڑے فنکار قتیل
بھول گئے اپنے اپنے شہکاروں کو
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment