اندھیری رات میں جلتا دیا صحافت ہے
جھلستے صحرا میں ٹھنڈی ہوا صحافت ہے
سنی سنائی پہ جو بھی یقین رکھتا ہے
وہ خود صحافی نہ اس کا لکھا صحافت ہے
قلم کی نوک سے پگڑی اچھالنے والو
سنو یہ غور سے یہ بے حیا صحافت ہے
وہ جن کی بات کہیں بھی سنی نہیں جاتی
انہی کے واسطے اک آسرا صحافت ہے
ازل سے زرد صحافت خزاں کی ہے مظہر
خزاں رسیدہ صحافت بھی کیا صحافت ہے
صحافی جان کو جوکھوں میں ڈال دیتا ہے
کسے خبر کہ اذیت نما صحافت ہے
وہ جس میں دیکھ کے طارق سنور سکے دنیا
ہر ایک عہد میں وہ آئینہ صحافت ہے
طارق ملک
No comments:
Post a Comment