صفحات

Monday, 21 February 2022

جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں

 جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں

لوگ وہ لازوال ہوتے ہیں

عشق جب امتحان لیتا ہے

سر بھی بچنے محال ہوتے ہیں

ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹ پائیں جو

حوصلے وہ کمال ہوتے ہیں

آنکھوں آنکھوں میں حل جو ہو جائیں

کتنے مشکل سوال ہوتے ہیں

جذبے سچے ہوں تو بچھڑ کر بھی

ہجر لمحے وصال ہوتے ہیں

کسِ کو فرصت ہے غم جو بانٹے گا

جان کا یہ وبال ہوتے ہیں

روز آتے ہیں اپنے سر الزام

روز بکھرے وہ بال ہوتے ہیں

خود گریباں کو چاک رکھتے ہیں

یوں محبت میں حال ہوتے ہیں۔

جو چھپاتے ہیں دل کے زخموں کو

ان کے چہرے بحال ہو تے ہیں

عشق ساجد! تو جاودانی ہے

پھر بھی من میں ملال ہوتے ہیں


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment