جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں
لوگ وہ لازوال ہوتے ہیں
عشق جب امتحان لیتا ہے
سر بھی بچنے محال ہوتے ہیں
ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹ پائیں جو
حوصلے وہ کمال ہوتے ہیں
آنکھوں آنکھوں میں حل جو ہو جائیں
کتنے مشکل سوال ہوتے ہیں
جذبے سچے ہوں تو بچھڑ کر بھی
ہجر لمحے وصال ہوتے ہیں
کسِ کو فرصت ہے غم جو بانٹے گا
جان کا یہ وبال ہوتے ہیں
روز آتے ہیں اپنے سر الزام
روز بکھرے وہ بال ہوتے ہیں
خود گریباں کو چاک رکھتے ہیں
یوں محبت میں حال ہوتے ہیں۔
جو چھپاتے ہیں دل کے زخموں کو
ان کے چہرے بحال ہو تے ہیں
عشق ساجد! تو جاودانی ہے
پھر بھی من میں ملال ہوتے ہیں
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment