سارے غرور توڑ کے گھٹنوں پہ آئے تھے
اور اس کے باوجود بھی دھوکے ہی کھائے تھے
رِستے ہیں خون آج بھی ان سب سے مستقل
جو زخم تو نے دل پہ ہمارے لگائے تھے
تو ساتھ کیسے تھی، یہ پتا ہی نہیں چلا
ہمراہ اپنے، تنہا شبی کے ہی سائے تھے
ہم نے وفا کی بھیک تو مانگی نہیں کبھی
پھر آپ کس کے واسطے خیرات لائے تھے
گھبرا کے غیر لوگوں کا شانہ پکڑ لیا
اپنوں کی بے وفائی سے ہم تنگ آئے تھے
دانش کمال ندرت شعری کدھر گئی؟
مضمون اتنا عام سا کیوں آپ لائے تھے
دانش اثری
No comments:
Post a Comment