محبت بوسے سے پہلے ایجاد ہوئی تھی
مجھے اس کے ہاتھ چھڑاتے ہی اندازہ ہو گیا تھا
کہ ہمارے بیچ پہلے جیسا کچھ بھی نہیں
اس نے میرا پسندیدہ سوئٹر پہن رکھا تھا
جو اس کے گھٹنوں تک آتا تھا
اور اس میں وہ اپنی عمر سے بڑی لگتی تھی
ہم اسی کافی شاپ میں ملے
جہاں دیواروں پر افسانہ نگاروں کے نام لکھے ہوئے تھے
اور دن کو بھی ایک سنہرا لیمپ جلتا تھا
ہم نے اپنی اپنی کافی کی قیمت ادا کی
اسے ہونٹ چرانے کی کوفت سے بچانے کو
میں نے بوسہ لینے کا ارادہ ملتوی کر دیا
میں نے بادلوں سے ڈھکی اس صبح
اپنا بدن بستر سے کھینچ کر نکالا تھا
اور مفروضہ سورج کے احترام میں
مُندی ہوئی آنکھوں میں گیلی انگلیاں
سلائی کی طرح پھیر لی تھیں
سگریٹ کی ڈبیا اٹھانے کے لیے
مجھے 21 سیڑھیاں واپس چڑھنی پڑیں
لیکن چابی کمرے کے اندر قید تھی
آخری سکہ کل رات میں اس فوارے میں اچھال آیا تھا
جس کے حوض میں کھڑا پانی
پہلا بوسہ لیتے ہونٹوں کی طرح کپکپاتا ہے
اور جس کی تہہ میں پرانے سکے
یاد نہ آنے والے مصرعوں کی طرح
ایک لمحے کو جھلملا کر دھندلے پڑ جاتے ہیں
کل رات اس کی آنکھوں کے حوض سوکھے تھے
اور میرے ہونٹ بغیر کپکپائے نظمیں سنا سکتے تھے
بس کا ٹکٹ مُٹھی میں بھینچتے
میں نے اسے اپنی روانگی کا وقت پہلی بار بتایا تھا
پہلی ہی بار مجھے لگ رہا تھا
کہ پتھر کے اس سرد بنچ پر
بس کا انتظار بہت لمبا ہو گا
لیکن وہاں سگریٹ کی ایک ڈبیا تھی
اور واپسی کا ایک بلا تاریخ ٹکٹ
سلمان حیدر
No comments:
Post a Comment