Tuesday, 22 March 2022

محبت بوسے سے پہلے ایجاد ہوئی تھی

 محبت بوسے سے پہلے ایجاد ہوئی تھی


مجھے اس کے ہاتھ چھڑاتے ہی اندازہ ہو گیا تھا

کہ ہمارے بیچ پہلے جیسا کچھ بھی نہیں

اس نے میرا پسندیدہ سوئٹر پہن رکھا تھا

جو اس کے گھٹنوں تک آتا تھا

اور اس میں وہ اپنی عمر سے بڑی لگتی تھی

ہم اسی کافی شاپ میں ملے

جہاں دیواروں پر افسانہ نگاروں کے نام لکھے ہوئے تھے

اور دن کو بھی ایک سنہرا لیمپ جلتا تھا

ہم نے اپنی اپنی کافی کی قیمت ادا کی

اسے ہونٹ چرانے کی کوفت سے بچانے کو

میں نے بوسہ لینے کا ارادہ ملتوی کر دیا

میں نے بادلوں سے ڈھکی اس صبح

اپنا بدن بستر سے کھینچ کر نکالا تھا

اور مفروضہ سورج کے احترام میں

مُندی ہوئی آنکھوں میں گیلی انگلیاں 

سلائی کی طرح پھیر لی تھیں

سگریٹ کی ڈبیا اٹھانے کے لیے

 مجھے 21 سیڑھیاں واپس چڑھنی پڑیں

لیکن چابی کمرے کے اندر قید تھی

آخری سکہ کل رات میں اس فوارے میں اچھال آیا تھا

جس کے حوض میں کھڑا پانی

پہلا بوسہ لیتے ہونٹوں کی طرح کپکپاتا ہے

اور جس کی تہہ میں پرانے سکے

یاد نہ آنے والے مصرعوں کی طرح

ایک لمحے کو جھلملا کر دھندلے پڑ جاتے ہیں

کل رات اس کی آنکھوں کے حوض سوکھے تھے

اور میرے ہونٹ بغیر کپکپائے نظمیں سنا سکتے تھے

بس کا ٹکٹ مُٹھی میں بھینچتے 

میں نے اسے اپنی روانگی کا وقت پہلی بار بتایا تھا

پہلی ہی بار مجھے لگ رہا تھا

کہ پتھر کے اس سرد بنچ پر

بس کا انتظار بہت لمبا ہو گا

لیکن وہاں سگریٹ کی ایک ڈبیا تھی

اور واپسی کا ایک بلا تاریخ ٹکٹ


سلمان حیدر

No comments:

Post a Comment