لٹکی ہے تیرے سر پہ جو. تلوار، مجھے کیا
ہو جائے تُو زُلفوں میں گرفتار ،مجھے کیا
میں نے بسا لیا ہے تصور میں تجھی کو
کرتا رہے وہ چاند کا دیدار، مجھے کیا
چلتی ہے مِرے شہر میں جو سر پھری آندھی
لے جائے تیرے سر سے جو دستار، مجھے کیا
سب لوگ دیکھتے ہیں اسے نیچی نظر سے
نظروں میں تیری ہو گا با وقار مجھے کیا
کرتا ہے سب کے سامنے شعر و سُخن کی بات
رکھتا ہے آستین میں تلوار، مجھے کیا
ہم تو سفیر بن کے محبت کے چلیں گے
کر دے کھڑی وہ درمیاں دیوار، مجھے کیا
کہہ کر امیرِ شہر نے توڑا ہے ہر بھرم
مرتا ہے کوئی بھوک سے نادار، مجھے کیا
میں آگ بُجھاتا رہوں گا اپنے نگر کی
سوئی ہے اگر چین سے سرکار، مجھے کیا
اک دن میں سات مرتبہ بھونچال آ گیا
لگتا ہے قیامت کے ہیں آثار، مجھے کیا
محنت سے پالتا تو ہے اپنے عیال کو
وہ بیچتا ہے شہر میں اخبار، مجھے کیا
سَرقے کی شاعری سے وہ مشہور ہو گیا
خونِ جگر سے لکھتا ہوں اشعار، مجھے کیا
پرویز مانوس
No comments:
Post a Comment