حیرت سے تک رہے ہیں یہ شمش و قمر مجھے
لگ جائے پھر نہ آج کسی کی نظر مجھے
کیوں ہچکیاں ستاتی ہے شام و سحر مجھے
کرتا ہے کون یاد یہاں اس قدر مجھے?
اے خوشبوؤ! بتاؤ انہیں کہ میں کون ہوں
پہجانتے نہیں ہیں یہ دیوار و در مجھے
پھر آج اس کی یاد نے یلغار کر دیا
ہونا پڑے گا آج بھی سینہ سِپر مجھے
کس نے جھنجھوڑ ڈالا ہے میرے ضمیر کو
کس نے جگا دیا ہے یہ وقتِ سحر مجھے
میں کیا کروں گا لے کے یہ آشائشِ جہاں
رہنا ہے اس جہاں میں بہت مختصر مجھے
شدت سے غم کی مرہی نہ جائے کہیں اسد
تڑپا نہ اپنے حجر میں تو اس قدر مجھے
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment