سوچیں نہ منقسم ہوں اگر شش جہات میں
اسرارِ کُن کا فلسفہ ہے کائنات میں
آنکھوں کی سر زمین کے جنگی محاذ پر
نیندوں کا اک ہجوم ہے خوابوں کے گھات میں
اب آسماں زمین میں جتنا بھی ہو تضاد
طبقوں میں بٹ گئے ہیں برابر یہ سات میں
افسوس ہم نے سنگ تراشی بھی بیچ دی
ورنہ پڑے ہیں کتنے زمرد سوات میں
سجدے بھی گنتے آئے ہیں ہم لوگ آج تک
ہے مسئلہ ریاضی کا اسلامیات میں
معصوم و سادہ لوح کو اتنی نہیں خبر
ہم دل کی بات کر چکے ہیں بات بات میں
چلتی ہوا کی نبض بھی صدمے سے رک گئی
نصرت! بلا کا درد تھا چرخے کی کات میں
نصرت عارفین
No comments:
Post a Comment