آثار کے اطراف میں ابہام پڑے ہیں
کچھ نقش تخیل میں ابھی خام پڑے ہیں
دراصل بڑا کام ہے احساس نبھانا
ورنہ تو ہمارے بھی بڑے کام پڑے ہیں
تم داد طلب کیوں ہو بھلا ناموروں سے
کیکر کے درختوں پہ کبھی آم پڑے ہیں
سچ ہے کہ خدا ہے تو اسے ڈھونڈنا کیسا
پھر ڈھونڈنے والے بھی تو ناکام پڑے ہیں
ہم بگڑے ہوئے بچھڑے ہوئے اجڑے ہوئے لوگ
ہم جیسوں کے دنیا میں کئی نام پڑے ہیں
حیرت ہے کہ اِس وقت کے کچھ اتنے بڑے نام
تاریخ کی دہلیز پہ گمنام پڑے ہیں
کچھ کم تو نہیں اگلے جہانوں کی مشقت
کچھ دیر میسر ہے جو آرام، پڑے ہیں
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment